Inkaar-e-Hadith se Inkar-e-Quran Tk انکارِ حدیث سے انکارِ قران تک

425.00

قران کریم اور احادیث مقدسہ اسلامی تعلیمات کا سر چشمہ ہیں۔ انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ جمایا تو انھوں نے اپنے سامراجی مقاصد کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں انھوں نے جن نام نہاد سکالروں کی کاشت کی، انھوں نے فتنہ انکارِ حدیث برپا کرنے کی مہم شروع کردی۔ الحمدللہ ! علمائے حق آگے بڑھے۔ انھوں نے قران و سنت کے روشن دلائل و براہین سے انگریزوں اور ان کے لے پالک دانشوروں کے سارے حربے بیکار کردیے اور یوں مسلمانوں کی متاعِ ایمان کو تباہ ہونے سے بچایا۔ ایسے علمائے کبار کی کہکشاں میں فاضل اجل مولانا عبدالسلام رستمی کا نام ایک نادر اضافہ ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں قران و حدیث اور تعامل صحابہ کی روشنی میں سر سید، اسلم جیراج پوری اور غلام احمد پرویز جیسے قلمکاروں کی گمراہ کن تحریروں اور دور ازکار تاویلوں کے بخیے اُدھیڑ دیے ہیں اور یہ حقیقت اچھی طرح اُجاگر کردی ہے کہ حدیث کا انکار در حقیقت قران کا انکار ہے۔

قران کے ساتھ ساتھ جب تک صحیح احادیث پرپوری طرح یقین اور عمل نہیں ہوگا، اس وقت تک ایمان کی لذت شناسی نصیب نہیں ہوگی۔ یہ کتاب اسی حقیقت کی ایمان افروز تفسیر اور حجیتِ حدیث کی دل آویز دستاویز ہے۔

Open chat
1
Hi, how can I help you?