<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Tabsara &#8211; Dar Abi Tayyab</title>
	<atom:link href="https://www.darabitayyab.com/category/tabsara/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://www.darabitayyab.com</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Thu, 25 Feb 2021 12:15:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=5.8.12</generator>

<image>
	<url>https://www.darabitayyab.com/wp-content/uploads/2020/09/20200917_1747161-1.png</url>
	<title>Tabsara &#8211; Dar Abi Tayyab</title>
	<link>https://www.darabitayyab.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مقالات مولانا عبد الخالق قدوسی رحمہ اللہ کی اولین اشاعت</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2021/02/25/tabsara-muqala-quddusi/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2021/02/25/tabsara-muqala-quddusi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 25 Feb 2021 12:11:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=1487</guid>

					<description><![CDATA[مولانا عبد الخالق قدوسی رحمہ اللہ۔۔۔ ( شہادت 23 مارچ 1987ء)۔۔۔ کا شمار پاکستان کے نامور اہل حدیث علماء میں ہوتا ہے جو مختلف علوم وفنون بالخصوص تاریخ پر گہری نظر رکھتے تھے اور بقول حضرت العلام مولانا ارشاد الحق اثری: وہ ایک متبحر عالم اور بلند پایہ محقق تھے۔بعض تاریخی اور کچھ دیگر علمی [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">مولانا عبد الخالق قدوسی رحمہ اللہ۔۔۔ ( شہادت 23 مارچ 1987ء)۔۔۔ کا شمار پاکستان کے نامور اہل حدیث علماء میں ہوتا ہے جو مختلف علوم وفنون بالخصوص تاریخ پر گہری نظر رکھتے تھے اور بقول حضرت العلام مولانا ارشاد الحق اثری: وہ ایک متبحر عالم اور بلند پایہ محقق تھے۔بعض تاریخی اور کچھ دیگر علمی وفقہی موضوعات پر ان کی کچھ تحقیقی نگارشات منظر عام پر آئیں جو اگرچہ تعداد میں تھوڑی لیکن بلا شبہہ قامت کہتر مگر بقیمت بہتر کی مصداق ہیں۔ان تحاریر کے مطالعے سے لکھنے والے کی وسعت مطالعہ،دقت نظری، اجتہادی بصیرت اور تاریخی روایات کا روایت ودرایت کی مدد سے تحقیقی جائزہ قاری کو متاثر کرتا ہے۔۔۔پھر اسلوب تحریر میں سلاست وروانی، ادبی چاشنی، ہر بات کا ژرف نگاہی سے تجزیہ، موقف سے شدید اختلاف کے باوجود مخالف کا کامل احترام اور اس کی درشتی کے باوجود عنان قلم کا رخ موضوع کے تصفیہ کی طرف رکھنا یقینا ایک کامیاب قلم کار کی نشانی ہے جو مولانا قدوسی کی تحریرات میں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہے۔اس مجموعے میں جن موضوعات پر داد تحقیق دی گئی ہے ان میں: امام طبری کی علمی خدمات اور ان پر قدیم وجدید اعتراضات بالخصوص تمنا عمادی اور محمود عباسی کے اتہامات کا تفصیلی جائزہ۔۔۔۔۔تاریخ اہل حدیث برصغیر کا مفصل تذکرہ اور ان کی دینی خدمات پر معترضین کے عائد کردہ اشکالات بالخصوص شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی، مولانا محمد حسین بٹالوی، تحریک جہاد اور دیگر ملی خدمات کا تذکار، جامعہ سلفیہ فیصل آباد کی مستند ابتدائی تاریخ، اہل الحدیث اور اہل الرائے کے ما بین بعض مختلف فیہ مسائل پر قیمتی تاریخی فوائد ونکات جیسے موضوعات پڑھنے کو ملیں گے۔یہ مضامین تا حال مختلف رسائل وجرائد اور قلمی مسودات ہی میں تھے جنھیں پہلی بار کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔یہ کتاب بڑے سائز کے 536 صفحات پر مشتمل ہے۔ رعایتی قیمت 840 روپے ہے</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2021/02/25/tabsara-muqala-quddusi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جائزة الاحوذي…سنن ترمذی کی جامع سلفی شرح</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/12/11/review-on-jaiza-tul-ahwazi/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/12/11/review-on-jaiza-tul-ahwazi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 11 Dec 2020 11:01:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<category><![CDATA[Jaiza tul ahwazi]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=1194</guid>

					<description><![CDATA[تحرير:- حافظ محمد شاہد رفیقشیخ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ دور حاضر کے عظیم محدث اور کہنہ مشق مدرس ہیں جو نصف صدی سے تعلیمی وتدریسی میدان میں مصروف کار ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو عرب وعجم کے کبار ائمہ سنت سے تلمذ کا شرف بخشا۔ اسی طرح آپ کے تلامذہ اور مستفیدین کا [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">تحرير:- حافظ محمد شاہد رفیق<br>شیخ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ دور حاضر کے عظیم محدث اور کہنہ مشق مدرس ہیں جو نصف صدی سے تعلیمی وتدریسی میدان میں مصروف کار ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو عرب وعجم کے کبار ائمہ سنت سے تلمذ کا شرف بخشا۔ اسی طرح آپ کے تلامذہ اور مستفیدین کا سلسلہ بھی عجم سے باہر عالمِ عرب تک دراز ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔<br>اللہ تعالی نے آپ کو حدیثی اور فقہی بصیرت سے بھی خوب خوب نوازا ہے۔ عرصہ دراز جماعت اہل حدیث کے متعدد مجلات میں آپ ہی کے فتاوی شائع ہوتے رہے اور لاکھوں لوگ اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آپ کے یہ فتاوی چار جلدوں میں فتاوی ثنائیہ مدنیہ کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔<br>حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ کی سب سے بڑی تصنیفی کاوش سنن ترمذی کی زیر نظر شرح ہے جو بہت سی خوبیوں کی حامل اور علماء وطلباء کے لیے بے حد نافع یے۔<br>یہ شرح اختصار اور جامعیت کا حسین امتزاج ہے جس سے مدرسین اور طلبہ بہ آسانی استفادہ کر سکتے ہیں۔<br>اس شرح میں جامع ترمذی کے متن وسند کا حل، روات اور احادیث کا حکم، مشکل الفاظ کی تشریح، راجح موقف کی تعیین اور بے شمار حدیثی وفقہی فوائد پڑھنے کو ملتے ہیں۔<br>یہ کتاب پہلے بھی ہند وپاک سے طبع ہو چکی ہے مگر اس طباعت میں کتاب کی از سر نو تصحیح ومراجعت اور لفظی وطباعتی اغلاط کے ازالے کی بھرپور سعی کی گئی ہے۔<br>علاوہ ازیں اس اشاعت کی دوسری امتیازی خوبی یہ ہے کہ اسے لاگت سے بھی کم قیمت پر اہل علم اور طلبائے حدیث کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔<br>4 ضخیم جلدوں اور 4 ہزار کے قریب صفحات پر مشتمل یہ شرح، عمدہ طباعت وکاغذ کے ساتھ، صرف 3 ہزار کی خصوصی رعایتی قیمت پر دستیاب ہے۔</p>



<p class="has-text-align-right"> ڈاک سے منگوانے کے لیے مندرجہ ذیل وٹس اپ نمبر پر میسیج کیجیے<br>https://wa.me/923406671335</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/12/11/review-on-jaiza-tul-ahwazi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مقالات شیخ محمد عزیر شمس حفظہ اللہ۔۔۔۔۔کی تدوین واشاعت</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/10/10/tabsara-muqalat-uzair-shams/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/10/10/tabsara-muqalat-uzair-shams/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2020 12:05:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=680</guid>

					<description><![CDATA[برصغیر پاک و ہند کے علمی حلقوں میں شیخ محمد عزیر شمس حفظہ اللہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ایک بلند پایہ مصنف اور ژرف نگاہ محقق ہیں۔ اردو اور عربی زبان میں اب تک آپ کی متعدد تحقیقات اور مقالات منظرِ عام پر آکر حلقۂ اہلِ علم سے دادِ تحسین پا [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">برصغیر پاک و ہند کے علمی حلقوں میں شیخ محمد عزیر شمس حفظہ اللہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ایک بلند پایہ مصنف اور ژرف نگاہ محقق ہیں۔ اردو اور عربی زبان میں اب تک آپ کی متعدد تحقیقات اور مقالات منظرِ عام پر آکر حلقۂ اہلِ علم سے دادِ تحسین پا چکے ہیں۔<br>شیخ محترم نے گذشتہ 45 برس میں وقتاً فوقتاً جو اردو مضامین حوالہ قرطاس کیے، وہ اپنے موضوع اور مواد کی اہمیت کے پیشِ نظر انتہائی وقیع اور قیمتی ہیں۔ ان نگارشات میں جہاں ہمیں تحقیقی اسلوب اور وسعتِ مطالعہ جیسی صفات نظر آتی ہیں، وہیں ان میں محققین اور طلبائے علم کے لیے راہنمائی کا مکمل سامان بھی موجود ہے کہ کسی بھی موضوع پر لکھنے کے لیے اس کی ترتیب کیسی ہو، معلومات کا ذریعہ کیا ہو اور مصادر و مراجع سے استفادہ کیوں کر کریں۔ پھر اظہارِ مدعا میں زبان اور منہج و اسلوب کیسا اپنائیں، کسی کتاب یا مضمون پر نقد و تبصرہ اور تجزیہ کرنے کا مفید طریق کیا ہوتا ہے؛ طلبہ و محققین کے لیے ان تمام مفید اور بنیادی سوالوں کا جواب شیخ محترم کے تحریری اسلوب میں بہ درجہ اتم نظر آتا ہے اور قارئین بہ آسانی حصولِ معلومات کے علاوہ ان نگارشات سے یہ باتیں بھی سیکھ سکتے ہیں۔<br>زیرِ نظر مجموعہ مقالات میں شیخ محترم کے ادب و تاریخ اور دیگر موضوعات سے متعلق زیادہ تر وہی مضامین شامل ہیں جو مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، تاہم ان میں چند ایک غیر مطبوع تحریریں بھی ہیں جو قلمی شکل میں محفوظ تھیں اور ابھی تک ان کی اشاعت کی نوبت نہیں آئی۔ بنا بریں ہم نے ان تمام مضامین کی علمی اہمیت اور تحقیقی افادیت کے پیشِ نظر شیخ محترم سے گزارش کی کہ ان بکھرے موتیوں کو ایک لڑی میں پرو کر شائقین کے لیے استفادہ ممکن بنانا چاہیے جس پر آپ نے آمادگی کا اظہار کیا اور ان منتشر تحریروں کو خود بھی جمع کیا اور جس طریقے سے ان کا حصول ممکن تھا ہم نے بھی اپنے تئیں اس کی بھرپور کوشش کی، اور یوں ہم قارئین کے سامنے اس اولین مجموعے کے توسط سے شیخ محترم کے 45 مقالات و مضامین کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔<br>واضح رہے کہ مجموعہ مقالات کی اس جلد میں شیخ محترم کے فقہی موضوعات پر لکھے ہوئے مضامین شامل نہیں ہیں۔ وہ ان شاء ﷲ جلد ہی اس مجموعے کے اگلے حصے میں پیش کیے جائیں گے، فی الحال اس جلد میں آپ کے عمومی مقالات، مختلف کتب پر علمی مقدمات، وفیات اور تنقیدی تحریریں شامل کی گئی ہیں۔<br>یہ مجموعہ چار حصوں میں منقسم ہے:<br>۔(1) مقالات: اس حصے میں 13 مضامین ہیں جن میں سے کچھ تو بعض شخصیات کے سوانح اور علمی خدمات سے متعلق ہیں، جیسا کہ ’’مولانا شمس الحق عظیم آبادی؛ حیات اور خدمات‘‘، ’’مولانا ثناء اﷲ امرتسری رحمہ اللہ کی تفسیری خدمات‘‘، ’’مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کی علمی خدمات اور ان کا طریقۂ تحقیق‘‘، اور &#8220;امام ابن تیمیہ اور علامہ شبلی&#8221; جیسی تحریریں ہیں، جبکہ دیگر مقالات عربی و اردو ادب سے متعلق ہیں جن میں: ’’غزالی یا غزَّالی‘‘، ’’برصغیر میں عربی زبان اور ادب کی تعلیم‘‘، ’’عربی سیکھنے والوں کے لیے چند مشورے‘‘، ’’حالی اور ابن رشیق (ایک غلط فہمی کا ازالہ)‘‘، ’’قصیدہ ’بَانَتْ سُعَادُ‘ کا استناد‘‘ اور ’’مسدسِ حالی ؔاور اس کے اثرات‘‘ شامل ہیں۔ ایسے ہی ’’عربی مدارس کے نصابِ تعلیم وغیرہ سے متعلق چند تجاویز‘‘ کے نام سے نہایت اہم مضمون بھی اسی باب کا حصہ ہے۔ ایک مضمون ’’انگلیوں پر گننے کا پرانا طریقہ‘‘ کے عنوان سے بھی ہے۔ نیز اسی حصے میں ’’ذخیرۂ حدیث کی تدوین‘‘ کے موضوع پر بھی ایک مضمون ہے جس میں تدوینِ حدیث کا تذکرہ اور محدثین کی خدمات اجاگر کی ہیں اور ترکی میں سرکاری سرپرستی میں ہونے والی تدوینِ حدیث کے نام پر ایک فسوں کاری کا جائزہ لیا ہے۔<br>۔ (2)مقدمات: اس حصے میں شیخ محترم کے وہ علمی مقدمات شامل ہیں جو آپ نے عقیدہ، حدیث، فقہ، فتاویٰ، سیرت و سوانح سے متعلق مختلف کتب پر تحریر کیے ہیں۔ ان کی تعداد بھی 13 ہے۔ شیخ محترم کے ان مقدمات و تقریظات کا امتیازی وصف یہ ہے کہ آپ زیرِ بحث موضوع کا پسِ منظر، اسباب و علل، تاریخی تفصیلات اور قدیم و جدید مصادر پر یوں روشنی ڈالتے اور حقائق کی تصویر کشی کرتے ہیں کہ وہ پڑھنے والے کے ذہن میں راسخ ہو ہو جاتے ہیں اور قاری آپ کی طویل ترین تحریر سے بھی کسی قسم کی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ جیسا کہ ’’مولانا شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ؛ حیات اور خدمات‘‘، ’’فتاویٰ علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ‘، ’’دفاعِ صحیح بخاری‘‘، ’’زیارتِ قبر نبوی‘‘، ’’اللمحات‘‘ اور ’’تنویر العینین‘‘ وغیرہ کتب پر آپ کے مفصل و مدلل مقدمات سے عیاں ہوتا ہے۔<br>۔ (3)تنقید و تبصرہ: اس باب میں شیخ محترم کے 13 تنقیدی مضامین شامل ہیں جو زیادہ تر بعض کتب سے متعلق ہیں اور بعض تحریریں کچھ مضامین کے تعاقب میں لکھی گئی ہیں۔ ان میں کچھ تحریریں تو انتہائی مفصل ہیں اور بعض اختصار کا پہلو لیے ہوئے ہیں۔<br>۔ (4)وفیات: اس ضمن میں 6 مضامین مندرج ہیں جو آپ نے اپنے چار جلیل القدر اساتذہ: مولانا شمس الحق سلفی (والد مکرم)، مولانا عبدالنور (نور عظیم) ندوی، مولانا صفی الرحمان مبارک پوری، ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری، اور دو معاصر علماء: پروفیسر عبدالجبار شاکر مرحوم اور حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی وفات پر سپردِ قلم کیے تھے۔<br>امید ہے یہ علمی مجموعہ قارئین کو پسند ائے گا اور معلومات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے علمی ذوق کو بھی جلا بخشے گا۔<br>ﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مجموعے کی اشاعت کرنے والے ادارے دار ابی الطیب گوجرانوالہ کے بانیان اور جملہ خدمت گاران کو یوں ہی توفیق سے نوازتا رہے اور ہمیں اس کے توسط سے خدمتِ دین اور دفاعِ توحید و سنت کی سعادت مرحمت فرماتا رہے۔ آمین یا رب العالمین۔<br>یہ کتاب بڑے سائز کے 612 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی رعایتی قیمت 800 روپے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/10/10/tabsara-muqalat-uzair-shams/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فتاوی نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کا ترجمہ واشاعت</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/09/23/tabsara-fatawa-nawab-siddiq-hasan-khan/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/09/23/tabsara-fatawa-nawab-siddiq-hasan-khan/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 23 Sep 2020 12:39:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Nawab Siddique hasan Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=490</guid>

					<description><![CDATA[مجدد العصر والا جاہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ اپنے عہد کی عبقری شخصیت اور علم و عمل کے اعتبار سے نہایت بلند مقام پر فائز تھے۔ انھوں نے دعوت و تبلیغ، تصنیف و تالیف، تعلیم و تدریس اور دیگر ذرائع و اسالیب سے کئی تجدیدی کارنامے انجام دیے جن کے اثرات ہند و [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">مجدد العصر والا جاہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ اپنے عہد کی عبقری شخصیت اور علم و عمل کے اعتبار سے نہایت بلند مقام پر فائز تھے۔ انھوں نے دعوت و تبلیغ، تصنیف و تالیف، تعلیم و تدریس اور دیگر ذرائع و اسالیب سے کئی تجدیدی کارنامے انجام دیے جن کے اثرات ہند و بیرون ہند میں دور دراز تک پہنچے اور خلقِ کثیر ان سے مستفید ہوئی۔<br>نواب صاحب مرحوم نے مختلف علوم و فنون میں دو صد سے زیادہ کتب لکھی ہیں جن میں متعدد کتابوں کا تعلق فقہ و اِفتا سے ہے اور یہ علمی ذخیرہ تینوں زبانوں: عربی، اردو اور فارسی میں مطبوع ہے۔ کتبِ فتاویٰ میں نواب صاحب مرحوم کے دو ضخیم مجموعے ہیں جو ڈیڑھ ہزار سے زائد صفحات پر پھیلے ہوئے فارسی زبان میں ہیں اور بیسیوں مسائل کی توضیح و تشریح پر مشتمل ہیں۔ زیر نظر طباعت میں یہی دو فارسی مجموعے اردو قالب میں پیش کیے گئے ہیں۔</p>



<p class="has-text-align-right">(1)</p>



<p class="has-text-align-right">۔ ان فتاویٰ کا پہلا مجموعہ ’’ہدایۃ السائل إلیٰ أدلۃ المسائل‘‘ کے نام سے 546 صفحات پر مشتمل ہے جو 1292ھ میں مطبع شاہجہانی بھوپال سے طبع ہوا تھا۔ یہ مجموعہ 107 فتاویٰ پر مشتمل ہے جس میں عقائد و عبادات اور دیگر مسائل سے متعلق استفسارات کے جواب دیے گئے ہیں۔</p>



<p class="has-text-align-right">(2)<br>۔ دوسرا مجموعہ ’’دلیل الطالب علیٰ أرجح المطالب‘‘ ہے۔ یہ بھی فارسی زبان میں ہے اور 1002 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں 180 سوالات کے جوابات ہیں اور آخر (181) میں خاتمہ کتاب کے اندر گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والے اعمال کا مفصل تذکرہ گیا ہے۔<br>یہ مجموعہ پہلی مرتبہ مطبع شاہجہانی بھوپال سے 1295ھ میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ مولف نے ہر سوال و جواب کو ایک مستقل نام دیا ہے، گویا ہر فتویٰ ایک علاحدہ رسالہ ہو۔ پھر یہ تمام نام بھی مسجع و مقفیٰ عبارات میں ہیں جو صاحبِ کتاب کی عربی زبان و ادب پر مہارت و لیاقت پر دلالت کناں ہیں۔ اسی وجہ سے بعض اہلِ علم نے ان تمام فتاویٰ کو مصنف کے مستقل رسائل شمار کیا ہے اور ان کی تالیفات کی تعداد تین صد سے بھی اوپر بتائی ہے۔<br>(دیکھیں: جماعت اہلِ حدیث کی تصنیفی خدمات از مولانا محمد مستقیم سلفی)</p>



<p class="has-text-align-right">ایک وضاحت:<br>مذکورہ بالا فتاویٰ کے دونوں مجموعوں کے علاوہ بھی نواب صاحب رحمہ اللہ کی فتاویٰ سے متعلق دو کتب کا ذکر ملتا ہے، لیکن ہم نے انھیں اس مجموعے میں شامل نہیں کیا جس کے اسباب یہ ہیں:<br>1۔ ’’حل سؤالات مشکلہ‘‘ کے نام سے نواب صاحب مرحوم کے فتاویٰ کا ایک مختصر مجموعہ موجود ہے جس کی ضخامت 32 صفحات ہے اور یہ 24 سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ یہ مجموعہ 1289ھ میں مطبع نظامی کان پور سے شائع ہوا تھا۔ چونکہ یہ تمام سوالات اور ان کے جواباب ’’ہدایۃ السائل‘‘ میں موجود ہیں، اس لیے اسے زیرِ نظر مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا۔<br>2۔ ’’فتاویٰ نواب صدیق حسن خان‘‘ کے نام سے ایک مجموعہ مکتبہ محمدیہ لاہور کی طرف سے مئی 2013ء میں شائع ہوا تھا جو 400 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ اس مجموعے کی دوسری اشاعت ہے، اس کی اولین طباعت شیخ محی الدین لاہوری مرحوم کے زیرِ اہتمام مطبع احمدی لاہور سے دو جلدوں میں منظر عام پر آئی تھی۔<br>دراصل یہ نواب صاحب مرحوم کا فتاویٰ ہے ہی نہیں، بلکہ اس کا زیادہ تر حصہ ’’فتاویٰ نذیریہ‘‘ سے ماخوذ ہے جس میں نواب صاحب رحمہ اللہ کا ایک فتویٰ بھی شامل نہیں، البتہ کتاب کے آخر میں کچھ مباحث نواب صاحب مرحوم کی تالیف ’’دلیل الطالب‘‘ سے مختصراً اردو ترجمہ کر کے سوالاً جواباً شامل کر دیے گئے ہیں اور اسی بنا پر سارے مجموعے ہی کو ’’فتاویٰ نواب صدیق حسن خان‘‘ کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے جو بہر آئینہ درست نہیں۔<br>چونکہ ان علمی جواہر &#8216;ہدایة السائل&#8217; اور &#8216;دلیل الطالب&#8217; کا یہ خزینہ فارسی زبان میں تھا اور مدت سے نایاب تھا جس کی بنا پر اہلِ علم کے لیے اس سے استفادہ کرنا ممکن نہیں رہا تھا، اسی ضرورت کے پیشِ نظر ’’دار ابی الطیب۔ گوجرانوالہ‘‘ کے ذمے داران نے اسے اردو زبان میں منتقل کرنے کا عزم کیا، جسے عملی جامہ استاد محترم مولانا عبداﷲ سلیم صاحب نے پہنایا اور ہمارے لیے اس سے استفادے کی راہ آسان بنائی۔ جناب مولانا عبداﷲ سلیم صاحب نے کئی برس کی محنتِ شاقہ کے بعد اس کتاب کی فارسی،عربی عبارات و اشعار کا ترجمہ بھی کیا ہے اور ان فتاویٰ میں منقول نصوص و عبارات کی تخریج و تصحیح کا فریضہ بھی انجام دیا ہے جس پر وہ دادِ تحسین کے مستحق اور ہمارے شکریے کے سزاوار ہیں۔ ﷲ تعالیٰ ان کی یہ کاوش قبول کرے اور روزِ آخرت اسے بلندیِ درجات کا ذریعہ بنائے۔<br>ناسپاسی ہو گی یہاں اگر ہندوستان کے معروف عالمِ دین فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر لیث محمد مکی صاحب کا شکریہ نہ ادا کیا جائے جنھوں نے ان فتاویٰ کے اردو ترجمے پر نظر ثانی کی اور کئی مفید مشورہ جات اور تجاویز سے نوازا جن سے اس اشاعت کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔ ﷲ تعالیٰ انھیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی اس سعی کو توشۂ آخرت بنائے۔</p>



<p class="has-text-align-right"> اس کتاب کی طباعت و اشاعت میں جن حضرات نے بھی دامے درمے قدمے سخنے تعاون کیا ہے، ﷲ تعالیٰ انھیں اجرِ جزیل سے نوازے اور خدمتِ دین کی مزید توفیق ارزاں کرے۔ آمین یا رب العالمین</p>



<p class="has-text-align-right">یہ اردو اڈیشن 5 جلدوں اور 3168 صفحات پر مشتمل ہے</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/09/23/tabsara-fatawa-nawab-siddiq-hasan-khan/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تبصره مجموعہ رسائل عقیدہ</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-rasail-e-aqeeda/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-rasail-e-aqeeda/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 21 Sep 2020 13:30:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Nawab Siddique hasan Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=424</guid>

					<description><![CDATA[تحرير:-&#160;ابوهشام ضياء قاضي علماء ہند ميں علامہ نواب صديق حسن خان القنوجي رحمہ الله كو منفرد مقام حاصل ہے. علامہ رحمہ الله كى كتب عقيده , تفسير , حديث , فقہ , لغت , تراجم وغيره ميں ہيں. شيخ حمد بن عتيق رحمہ الله نے نواب صاحب رحمہ الله كى تفسير كے بارے ميں ذكر [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">تحرير:-&nbsp;<a href="https://www.facebook.com/abdulrehmanziaqazi?__tn__=%2Cd%2AF%2AF-R&amp;eid=ARA5H5N9Y4iXmkPYvjZ38wnvVBj0QKtnXMKDMgrkNU8P3BCeiwI3gMx1QQvlAVbTNZVrXMUwT-qwIwX3&amp;tn-str=%2AF">ابوهشام ضياء قاضي</a></p>



<p class="has-text-align-right">علماء ہند ميں علامہ نواب صديق حسن خان القنوجي رحمہ الله كو منفرد مقام حاصل ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">علامہ رحمہ الله كى كتب عقيده , تفسير , حديث , فقہ , لغت , تراجم وغيره ميں ہيں.</p>



<p class="has-text-align-right">شيخ حمد بن عتيق رحمہ الله نے نواب صاحب رحمہ الله كى تفسير كے بارے ميں ذكر كيا كہ ہميں ديكھ كر تعجب ہوا کہ كوئى اس زمانے ميں يہ كام سر انجام دے سكتا ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">ان كى كتاب &#8221; الروضة الندية &#8221; كے مطالعے كى نصيحت محدث العصر محمد ناصر الدين الألبانى رحمه الله طالب علموں كو كرتے تھے.</p>



<p class="has-text-align-right">علامہ رحمہ الله كى تصاتيف عربى , فارسى اور اردو ميں ہيں بلكہ ان كى كتاب سلسلة العسجد اور فتاوى دليل الطالب إلى أرجح المطالب كا فارسى سے عربى ميں ترجمہ ڈاكٹر ليث محمد بلال العمري المكى نے كيا اگرچہ دليل الطالب كا ترجمہ ناقص ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">عرب جامعات سے علامہ رحمہ الله كے متعلق رسائل بھى ہيں جن ميں سے چند مندرجہ ذيل ہيں :<br>1) دعوة الأمير العالم صديق حسن خان واحتسابه &#8211; علي الأحمد.<br>2)السيد صديق حسن القنوجى آرؤه الإعتقادية وموقفه من عقيدة السلف &#8211; أختر جمال لقمان.<br>3)صديق حسن خان وجهوده في الدراسات اللغوية &#8211; الزبير بن محمد أيوب بن عمر.<br>4)التعليم عند العلامة صديق حسن خان القنوجي &#8211; محمد الرحيلي.<br>5)القنوجي وآراه التفسيريه على ضوء أقوال ائمة التفسير من سورة الذريات الآية 31 إلى سورة الناس &#8211; محمد مهدي الحمودي.</p>



<p class="has-text-align-right">تصوير ميں موجود كتاب مفيد مجموعہ ہے اور اس ميں علامہ نواب صديق حسن خان رحمہ الله كے پندره عقيدے سے متعلق موضوعات پر رسائل كو تحقيق و ترجمہ كے ساتھ جمع كركے تين جلدوں ميں شائع كيا گيا ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">جلد أول ميں مقدمہ تقريب سو (100) صفحات پر مشتمل ہے جس ميں ان پندره رسائل كى تفصيل مذكور ہے اور اس كے علاوہ علامہ نواب صديق حسن خان رحمہ الله كى حيات پر بڑے خوبصورت انداز ميں روشنى ڈالى گئى ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">رسائل ميں اہم مسائل كا ذكر ہے جن ميں شرک , توحيد , عبادت , توسل , استغاثہ , استواء على العرش , الله كى صفات , صحابہ اور اہل بيت رضى الله عنھم , امامت و خلافت , قبر پرستى , كرامات أولياء , رياكارى وغيره شامل ہيں.</p>



<p class="has-text-align-right">بعض مقامات پر علامہ نواب صاحب رحمہ الله سے اختلاف كى صورت ميں حاشيہ لگا كر وضاحت بھى كى گئى ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">علامہ نواب صديق حسن خان رحمہ الله كى علمى تراث ميں يہ بہت اہم اضافہ اور مفيد مجموعہ ہے.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-rasail-e-aqeeda/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تبصره مجموعہ علوم قرآن</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-uloom-e-quran/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-uloom-e-quran/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 21 Sep 2020 13:23:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Nawab Siddique hasan Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=422</guid>

					<description><![CDATA[تحرير:- ابوهشام ضياء قاضي علوم قرآن كو خاص اور منفرد مقام حاصل اور كيوں حاصل نہ ہو جب كہ ان علوم كا تعلق رب كے كلام سے هے۔ علوم قرآن كے متعلق علماء كى متعدد تصانيف هيں جن ميں سے چند مندرجہ ذيل هيں : أبو الفرج ابن الجوزى رحمہ اللہ ( وفات 597 هجرى [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">تحرير:- <a href="https://www.facebook.com/abdulrehmanziaqazi?__tn__=%2Cd%2AF%2AF-R&amp;eid=ARA5H5N9Y4iXmkPYvjZ38wnvVBj0QKtnXMKDMgrkNU8P3BCeiwI3gMx1QQvlAVbTNZVrXMUwT-qwIwX3&amp;tn-str=%2AF">ابوهشام ضياء قاضي</a></p>



<p class="has-text-align-right">علوم قرآن كو خاص اور منفرد مقام حاصل اور كيوں حاصل نہ ہو جب كہ ان علوم كا تعلق رب كے كلام سے هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">علوم قرآن كے متعلق علماء كى متعدد تصانيف هيں جن ميں سے چند مندرجہ ذيل هيں :</p>



<p class="has-text-align-right">أبو الفرج ابن الجوزى رحمہ اللہ ( وفات 597 هجرى ) كى کتاب &#8221; فنون الأفنان في علوم القرآن &#8220;</p>



<p class="has-text-align-right">أبو شامة المقدسي رحمہ اللہ ( وفات 665 هجرى ) كى كتاب &#8221; المرشد الوجيز إلى علوم تتعلق بالكتاب العزيز &#8220;</p>



<p class="has-text-align-right">بدر الدين الزركشي رحمہ اللہ ( وفات 794 هجرى ) كى كتاب &#8221; البرهان في علوم القرآن &#8220;</p>



<p class="has-text-align-right">جلال الدين السيوطى رحمہ اللہ ( وفات 911 هجرى ) كى كتاب &#8221; الإتقان في علوم القرآن &#8220;</p>



<p class="has-text-align-right">ابن عقيلة المكى رحمہ اللہ ( وفات 1150 هجرى ) كى كتاب &#8221; الزيادة والإحسان في علوم القرآن &#8221; جو كہ دس جلدوں میں شائع هوئى هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">زير نظر مولانا علامہ نواب صديق حسن خان قنوجى رحمہ اللہ ( وفات 1307 هجرى ) كى كتاب &#8221; مجموعہ علوم قرآن &#8221; ميں چار رسائل اور كتب هیں جن كا تعلق قرآن كريم سے ہے اور ان كا ذكر درج ذيل هے :</p>



<p class="has-text-align-right">فصل الخطاب في فضل الكتاب : علامہ رحمہ اللہ نے سورتوں اور آيات كى تعداد ، آسمائے قرآن ، نزول وحى كى مختلف صورتيں ، رسم الخط ، نقطے اور اعراب كى تاريخ ، تلاوت قرآن كا ثواب ، ترتيب كے ساتھ قرآن كى مختلف سورتوں اور آيات كى فضيلت بيان كى هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">تذكير الكل بتفسير الفاتحة وأربع قل : اس كتاب ميں پانچ سورتوں فاتحہ ، کافرون ، اخلاص ، فلق ، ناس كى تفسير اور تشريح هے جس ميں عقيده كى اصلاح پر زور ديا گیا ہے۔</p>



<p class="has-text-align-right">إفادة الشيوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ : اس ميں ناسخ اور منسوخ كے معانى كا بيان هے۔ باب اول ميں قرآن مجيد كى ترتيب كے مطابق منسوخ آيات كا ذكر هے اور باب دوم ميں منسوخ احاديث كا ذكر هے۔ علامہ وحمہ اللہ کا اسلوب يہ ہے کہ وه پہلے منسوخ آيت كو ذكر كرتے ہیں اور پھر اس كا ناسخ اس كے ساتھ علماء كا اختلاف اور تفسير بھى بيان كرديتے ہیں اور مختلف آراء ميں ترجيح بھى ديتے ہیں اور احاديث كے متعلق بھى يھى منهج اختيار كيا هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">اكسير في اصول التفسير : اس كتاب ميں علامہ رحمہ اللہ نے ترتيب نزول ، تدوين قرآن ، فنون تفسير ميں صحابہ اور تابعين كا اختلاف اور اس كا حل بيان كيا هےاور اس كے ساتھ علم تفسير پر لکھى جانى والى تقريبا تيره سو كتابوں کا ان كے مؤلفين اور سن وفات كے ساتھ ذكر هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">اس مجموعہ میں اور بھى بهت سارے علوم و فوائد هيں جن كو يھاں درج كرنا مشكل هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">تقريبا نو سو (900) صفحات پر مشتمل يہ كتاب اردو داں طبقے کے لیے نهايت مفيد هے اس لیے اسے حاصل كركے استفاده كريں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-uloom-e-quran/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تبصره دارالحدیث رحمانیہ دہلی</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/09/19/tabsara-dar-ul-hadith-rahmania-dehli/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/09/19/tabsara-dar-ul-hadith-rahmania-dehli/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 19 Sep 2020 19:11:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=400</guid>

					<description><![CDATA[تحرير:- ثناءاللہ صادق تیمی شیخ محمد عزیز شمس حفظہ اللہ کی علم دوستی اور طلبہ نوازی دیکھیے کہ دو روز قبل اپنی زیارت سے شاد کام بھی کیا اور &#8221; دارالحدیث رحمانیہ دہلی از شیخ اسعد اعظمی حفظہ اللہ&#8221; کے ایک نسخے سے ممنون بھی کیا ۔ جزاہ اللہ خیرا و احسن الجزاء ۔مدرسہ رحمانیہ [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">تحرير:-  <a class="" href="https://www.facebook.com/profile.php?id=100002098614713&amp;ref=br_rs">ثناءاللہ صادق تیمی</a></p>



<p class="has-text-align-right">شیخ محمد عزیز شمس حفظہ اللہ کی علم دوستی اور طلبہ نوازی دیکھیے کہ دو روز قبل اپنی زیارت سے شاد کام بھی کیا اور &#8221; دارالحدیث رحمانیہ دہلی از شیخ اسعد اعظمی حفظہ اللہ&#8221; کے ایک نسخے سے ممنون بھی کیا ۔ جزاہ اللہ خیرا و احسن الجزاء ۔<br>مدرسہ رحمانیہ ہمارے خیالات کا بایں طور حصہ ضرور رہا ہے کہ مختلف محفلوں میں اور ذی علم بزرگوں سے اس کی داستان سنی ہے اور اس کے محیر&nbsp;العقول واقعات پر اش اش کیا ہے ۔تاریخ اہل حدیث سے تھوڑی بہت دلچسپی کی وجہ سے اسلاف کی چیزیں ایسے بھی توجہ کا مرکز رہی ہیں پھر مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی رحمہ اللہ پر عربی زبان میں مبسوط مقالہ لکھنے کی سعادت بھی حاصل رہی ہے ( جو کبھی اللہ نے چاہا تو ان شاءاللہ زیور طباعت سے آراستہ بھی ہوگا )اس لیے مدرسہ رحمانیہ اور اس کے مؤسسین ، اساتذہ ، اس کے فارغین ، ان کی خدمات جلیلہ اور مختصر مدت میں اس کی تابندہ تاریخ سے لگاؤ کوئی بعید بات نہیں لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ مدرسے سے متعلق معلومات کا زیادہ تر انحصار ادھر ادھر بکھری ہوئی چند تحریریں یا پھر علماء و اساتذہ کی زبانی باتیں ہی تھیں ۔ شیخ اسعد اعظمی حفظہ اللہ کی کتاب کا ذکر پہلے بھی کئی بار ہوا لیکن باضابطہ استفادہ کی توفیق اب جاکر ملی ہے ۔ شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ نے جو نسخہ مرحمت فرمایا ہے وہ مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی تقدیم کے ساتھ دار ابی الطیب للنشر و التوزیع ، گوجرانوالہ سے چھپا ہے ۔<br>کتاب میں اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کا وقیع اور پر از معلومات مقدمہ ہے ، مقدمے میں انہوں نے شیخ اسعد اعظمی صاحب کے ذریعہ مدرسے کی تاسیس سے متعلق اپنی کسی کتاب میں ایک سہو کی تصحیح کو تسلیم بھی کیا ہے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے اور ساتھ ہی خود اسعد اعظمی صاحب سے ہوئی ایک بھول کی نشاندہی کی ہے کہ مدرسہ کے زائرین میں مولانا فضل حق خیرآبادی کی بجائے فضل حق رامپوری ہو سکتے ہیں کہ فضل حق خیرآبادی تو پہلے ہی انتقال کرچکے تھے ۔ مقدمہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ مولانا محمد صاحب اعظمی اور شیخ صلاح الدین مقبول احمد مدنی حفظھما اللہ کی تاثراتی تحریریں بھی شامل ہیں اور زير نظر کتاب کو سمجھنے میں معاون ہونے کے ساتھ مصنف کی کوششوں کا اعترا ف کرتی ہیں ۔<br>آغاز کتاب میں مصنف نے نہایت ایمانداری اور کسر نفسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا ہے &#8221; اس کتاب میں مدرسے کا جو تعارف کرایا گيا ہے اور جو معلومات پیش کی گئی ہیں ،وہ مستند تاریخی حوالوں او رمعتبر قلم کاروں کی رہین منت ہیں ۔ ہمارا کام بحث و جستجو ، تحقیق و تنقیح ، جمع و ترتیب اور استنتاج تک محدود ہے &#8221; یہ اظہار نئ نسل کے لیے بہت اہم پیغام رکھتا ہے ( یا لیت قومی یشعرون ) !!<br>کتاب مدرسہ، سبب تاسیس ، محرکین ، بانیان مدرسہ ، اساتذہ ، طلبہ ، نظام تعلیم ، نصاب تعلیم ، نظم و نسق، فارغین اور زائرین کے تاثرات وغیرہ کا بہترین مرقع ہے ۔ مؤلف نے سلیس اور پیاری اردو میں ساری معلومات سلیقے سے جمع کردی ہے ۔ محرکین کے سلسلے میں تجزیہ و تطبیق کی کوشش بطور خاص قابل اعتناء ہے ۔ ا س سے مؤلف کی سنجیدگی اور متانت کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ 1921 سے 1947 تک کی تاریخ بھی اس کے جلو میں پیش ہوگئی ہے ۔مدرسے کے عروج اور اس کی تاریخی خدمات کے ساتھ تقسیم کے ساتھ ہی یکلخت زوال کی داستان دلخراش بھی پیش کی گئی ہےالبتہ مولانا اسحاق بھٹی نے منتظم مدرسہ سیٹھ عبدالوہاب کے کراچی منتقل ہونے کے بعد مدرسہ رحمانیہ کراچی سے متعلق تفصیلات بہم پہنچاکر ایک اچھا کام کیا ہے ۔<br>اس پوری تفصیل میں بانیان مدرسہ کی خداترسی ، علما نوازی اور طلبہ سےمحبت عصر حاضر میں ہمارے لیے موعظت کا سامان ہیں ۔ سچ ہے کہ ستائيس سال کے اس مختصر عرصے میں اگر ایک ادارے نے اتنی بڑی خدمت انجام دی تو اس کے پیچھے اخلاص و للہیت کی وہ مضبوط قوت تھی جس کی آج بھی ہمیں بہت ضرورت ہے ۔ مؤلف نے مختلف مواقع سے آج کے نظما اور ذمہ داران کو اچھا آئینہ دکھایا ہے ۔ پھر اساتذہ کی محنت و لگن ، طلبہ میں حصول علم کی تڑپ ، منتظمین مدرسہ کی جانب سے بہترین سہولتیں اور اساتذہ کی معیاری تنحواہیں یہ سب بتلاتی ہیں کہ مدرسہ رحمانیہ مدرسہ رحمانیہ کیوں کر ثابت ہوا ۔ کتاب کے اخیر میں مدرسہ رحمانیہ کی چند تصویریں بھی شامل ہیں جو نشان عبرت بھی ہیں کہ اب یہ مدرسہ شفیق میموریل اسکول میں تبدیل ہو چکا ہے ، اس کی پوری داستان الم انگیز بھی کتاب میں موجود ہے !!۔<br>نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کی تفصیل بھی ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ نصاب سے آج کے مدارس کے نصاب کا موازنہ کرلیا جائے تو بہت کچھ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ سہولت پسندی کے نام پر ہمارا نصاب تعلیم اب کہاں جا پہنچا ہے اور نتیجہ اب کیسی کھیپ مدارس سے تیار ہورہی ہے ۔ساتھ ہی مختصر مدت میں ساری دنیا حاصل کرنے کی خواہمشند نئی نسل کو کتاب کا مطالعہ بتلائے گا کہ ہمارے بزرگ کیوں کر اتنے کامیاب و بامراد ہوئے ۔<br>کتاب پڑھتے ہوئے ایک احساس دامنگير رہا کہ لگ بھگ ہر بڑے مدرسے میں فضیلت کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے مقالہ لکھنا پڑتا ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس عظیم درس گاہ کے اساتذہ اور فارغین پر باضابطہ کام کیا جائے بطور خاص ان پر جن پر اتنی توجہ نہ دی جاسکی اور جنہوں نے اپنے اپنے میدانوں میں بہر حال نمایاں کارنامہ انجام دیا ۔<br>تاریخ اہل حدیث سے بالخصوص اور تاریخ سے بالعموم دلچسپی رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ ، اساتذہ اور طلبہ برادری کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے ۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ مؤلف کو بہتر بدلوں سے نوازے اور ہمیں کتاب سے کما حقہ استفادہ کرنے کی توفیق ارزانی کرے ۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/09/19/tabsara-dar-ul-hadith-rahmania-dehli/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تبصره مجموعہ مقالات و فتاوی علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/09/07/tabsara-majmooa-muqalat-o-fatawa-azeemabadi/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/09/07/tabsara-majmooa-muqalat-o-fatawa-azeemabadi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 07 Sep 2020 14:41:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<category><![CDATA[علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ الله]]></category>
		<category><![CDATA[majmooa muqalat o fatawa allam azeemabadi]]></category>
		<category><![CDATA[tabsara]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=70</guid>

					<description><![CDATA[تحرير:- ڈاکٹر شاه فيض الابرار صديق بوجوہ بیماری کمپیوٹر کا استعمال مکمل بند اور موبائل کا استعمال نہ ہونے کے برابر تو اس فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے محترم و مکرم فاضل حافظ شاھد رفیق حفظہ اللہ کی ارسال کردہ 10 کتب میں.سے پہلی کتاب دو دنوں سے زیر مطالعہ تھی سو سوچا کہ اس [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">تحرير:- ڈاکٹر <a class="" href="https://www.facebook.com/drshahfaez">شاه فيض الابرار صديق</a></p>



<p class="has-text-align-right">بوجوہ بیماری کمپیوٹر کا استعمال مکمل بند اور موبائل کا استعمال نہ ہونے کے برابر تو اس فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے محترم و مکرم فاضل حافظ شاھد رفیق حفظہ اللہ کی ارسال کردہ 10 کتب میں.سے پہلی کتاب دو دنوں سے زیر مطالعہ تھی سو سوچا کہ اس کا تعارف کروا دیا جائے</p>



<p class="has-text-align-right">زیر نظر کتاب دراصل معروف محدث و فقیہ علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ کے مختلف فتاوی و مقالات جو بہت دقت نظری سے تلاش کیے گئے جمع کیے گئے اور ترتیب ،تنقیح و تصویب کے بعد ہمارے سامنے ایک خوبصورت و جاذب نظر جو تمام تر طباعتی حسن سے مزین ہیں جس کی ٹائٹل تصویر بھی میں نے دی ہے</p>



<p class="has-text-align-right">گو کہ یہ شیخ رحمہ اللہ کے مکمل.فتاوی تو نہیں کہے جا سکتے لیکن میسر فتاوی جن کی تعداد 52 ہے وہ جمع کیے گئے ہیں جن میں 14 فتاوی عقائد ، 12 فتاوی نماز، 5 فتاوی جنائز ، 2 فتاوی زکوۃ ، 10 فتاوی نکاح،1 فتوی طلاق، 2 فتاوی رضاعت، 2 فتاوی قربانی، 2 فتاوی وراثت سے متعلق ہیں</p>



<p class="has-text-align-right">ان فتاوی سے شیخ رحمہ اللہ کا تبحر علمی اور نصوص و آثار پر عبور و استحضار کا بخوبی علم ہو سکتا ہے اس حوالے سے ایک فتوی بطور خاص پڑھنے کے لائق ہے جو زکوۃ سے متعلق ہے .</p>



<p class="has-text-align-right">زکوۃ کی رقم مدرسے میں.دینا اس میں.احناف و غیر احناف کےدلائل.کو اتنا بہترین علمی تجزیہ نظر سے نہیں گزرا</p>



<p class="has-text-align-right">کتاب کے دوسرے حصے میں 8 اردو مقالات اور 5 فارسی مقالات درج کیے گئے ہیں</p>



<p class="has-text-align-right">اردو مقالات میں.احکام.عقیقہ اور جانوروں کو خصی کرنا خاصے کے مقالات ہیں ضرور پڑھیے</p>



<p class="has-text-align-right">یہ ادارہ برصغیر پاک و ہند کی معروف علمی شخصیت فضیلۃ الشیخ.عارف جاوید المحمدی حفظہ اللہ کے زیر اشراف کام.کر رہا ہے</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/09/07/tabsara-majmooa-muqalat-o-fatawa-azeemabadi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مجموعہ فتاوی محدث العصر علامہ محمد عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ الله</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/09/07/%d9%85%d8%ac%d9%85%d9%88%d8%b9%db%81-%d9%81%d8%aa%d8%a7%d9%88%db%8c-%d9%85%d8%ad%d8%af%d8%ab-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%b5%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b9%d8%a8%d8%af/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/09/07/%d9%85%d8%ac%d9%85%d9%88%d8%b9%db%81-%d9%81%d8%aa%d8%a7%d9%88%db%8c-%d9%85%d8%ad%d8%af%d8%ab-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%b5%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b9%d8%a8%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 07 Sep 2020 14:34:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<category><![CDATA[علامہ محمد عبدالرحمن مبارکپوری رحمه الله]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=66</guid>

					<description><![CDATA[تحرير:- ڈاکٹر شاه فيض الابرار صديق مجموعہ فتاوی محدث العصر علامہ محمد عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ مؤلف تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی مطبوع دار ابی الطیب برصغیر پاک وہند کے علماء کا علم حدیث میں عظیم الشان خدمات کا ایک مظہر محدث العصر جو( تحفۃ الاحوذی) کی صورت میں حیات جاوداں پا چکے ہیں میرے [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">تحرير:- ڈاکٹر <a class="" href="https://www.facebook.com/drshahfaez">شاه فيض الابرار صديق</a></p>



<p class="has-text-align-right">مجموعہ فتاوی محدث العصر علامہ محمد عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ مؤلف تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی</p>



<p class="has-text-align-right">مطبوع دار ابی الطیب</p>



<p class="has-text-align-right">برصغیر پاک وہند کے علماء کا علم حدیث میں عظیم الشان خدمات کا ایک مظہر محدث العصر جو( تحفۃ الاحوذی) کی صورت میں حیات جاوداں پا چکے ہیں میرے ممدوح رحمہ اللہ کا مکمل وکماحقہ تعارف تو فیس بک کی ان چند سطور میں ممکن ہی نہیں.لیکن جس کتاب کا تعارف میں آج کروانا چاہتا ہوں اس کتاب میں میرے ممدوح رحمہ اللہ کی علمی خدمات کا ایک مظہر فتاوی کی صورت میں موجود ہے .اتنے ہمہ جہتی اور متنوع مجالات میں اتنے جامع اور مدلل فتاوی واقعتا عدیم المثال ہیں ان فتاوی میں فقہی مذاہب کا موقف بیان کرتے ہوئے ان کی تائید یا تردید میں کتاب و سنت کی روشنی میں موقف مع الادلۃ بہت احسن انداز میں ذکر کر دیا جس میں نہ تو تکلف ہے اور نہ ہی بےجا لفاظی بلکہ آسان فہم اسلوب میں فتوی درج کر دیا</p>



<p class="has-text-align-right">اس مجموعہ میں کچھ دیگر محدثین کے فتاوی بھی درج کیے گئے ہیں جن کی تفصلات فتاوی کے ضمن میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے</p>



<p class="has-text-align-right">صفحہ نمبر 33 تا 57 پر محدث العصر مبارکپوری رحمہ اللہ کے حالات زندگی بیان کیے گئے ہیں اس سے قبل صاحب تحقیق و تخریج حافظ شاھد محمود حفظہ اللہ نے مختصرا یہ بیان کیا کہ ان فتاوی کا حصول کیسے ممکن ہوا یہ صفحات اور فہرست فتاوی کی تصاویر درج کی جارہی ہیں</p>



<p class="has-text-align-right">اہل علم کو سلسلہ فتاوی کو ضرور خریدنا چاہیے تو دوسری طرف ناشر سے التماس ہے کہ ان فتاوی کو عام کرنےقیمتوں میں ہر ممکن تخفیض کی جائے تاکہ ہم نسل نو کو بتا سکیں کہ ہمارا ماضی شابدار علمی تاریخ کا مالک ہے اورموجودہ زمانہ بھی اسی خوبصورت کڑی کا تسلسل ہے</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/09/07/%d9%85%d8%ac%d9%85%d9%88%d8%b9%db%81-%d9%81%d8%aa%d8%a7%d9%88%db%8c-%d9%85%d8%ad%d8%af%d8%ab-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%b5%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b9%d8%a8%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مجموعہ رسائل استاذالمناظرین مولانا احمد دین گھکڑوی رحمہ اللہ</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/09/07/%d9%85%d8%ac%d9%85%d9%88%d8%b9%db%81-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%b0%d8%a7%d9%84%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%a7/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/09/07/%d9%85%d8%ac%d9%85%d9%88%d8%b9%db%81-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%b0%d8%a7%d9%84%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 07 Sep 2020 14:21:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا احمد دین گھکڑوی رحمہ الله]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=59</guid>

					<description><![CDATA[تحرير:- ڈاکٹر شاه فيض الابرار صديق ارادہ تو یہی تھا کہ اب مجموعہ فتاوی استاذ الاساتذہ حافظ محمد عبداللہ محدث غازی پوری رحمہ اللہ کا مطالعہ کے نتیجے میں تعارف پیش کروں گا لیکن ہاتھ میں جو کتاب آئی تو ٹائٹل دیکھ کر پہلے گھکڑوی رحمہ اللہ کے رسائل کا مطالعہ پہلے کیا جائے سچ [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">تحرير:- ڈاکٹر <a class="" href="https://www.facebook.com/drshahfaez">شاه فيض الابرار صديق</a></p>



<p class="has-text-align-right">ارادہ تو یہی تھا کہ اب مجموعہ فتاوی استاذ الاساتذہ حافظ محمد عبداللہ محدث غازی پوری رحمہ اللہ کا مطالعہ</p>



<p class="has-text-align-right"> کے نتیجے میں تعارف پیش کروں گا لیکن ہاتھ میں جو کتاب آئی تو ٹائٹل دیکھ کر پہلے گھکڑوی رحمہ اللہ کے رسائل کا مطالعہ پہلے کیا جائے سچ تو یہ ہے کہ میں اپنے ممدوح رحمہ اللہ کو جانتا ہی نہ تھا کبھی ذکر خیر نہ سنا تھا پہلی مرتبہ ذکر خیر فضیلۃ الشیخ استاذ عارف جاوید المحمدی حفظہ اللہ کی زبانی سنا تھا جس کا تذکرہ ایک الگ پوسٹ کا متقاضی ہے جب وہ جامعہ ابی بکر کچھ دن رکے تھے تو تفصیلی نشستیں ہوئی تھی ۔</p>



<p class="has-text-align-right">گھکڑوی رحمہ اللہ کے تعارف کے لیے یہی کافی ہے کہ آپ کا لقب استاذ المناظرین اور آپ کی تحاریر پر تقریظات لکھنے والے حافظ محمد عبداللہ امرتسری رحمہ اللہ، مولانا محمد اسماعیل رحمہ اللہ، مولانا محمد حنیف رحمہ اللہ جیسے کبار کے اسماء شامل ہیں۔</p>



<p class="has-text-align-right">ان مقالات میں جو امر اظہر من الشمس نظر آتا ہے وہ نصوص کا استحضار اور قوت استنباط اور سب سے بڑھ کر حاضر جوابی لاجواب ہے۔</p>



<p class="has-text-align-right">مجموعہ رسائل گھکڑوی رحمہ اللہ بنیادی طور پر چھ حصوں پر مشتمل ہے</p>



<p class="has-text-align-right">پہلا رسالہ : فضائل سید العالمین</p>



<p class="has-text-align-right">کل 26 آیات سے فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر استشھاد کیا گیا ہے گو کہ مکمل قرآن ہی کان خلقہ القرآن ہے اور 15 احادیث سے استشھاد کیا گیا اس رسالہ کے آخر میں تقریبا دس سے زائد ایسے شبہات کا رد کیا گیا جو فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کیے گئے</p>



<p class="has-text-align-right">رحمۃ اللعالمین سلیمان منصورپوری رحمہ اللہ کے بعد دوسری تحریر جو فضائل رسالت پر پڑھی جو واقعتا پڑھنے کے لائق ہے</p>



<p class="has-text-align-right">دوسرا رسالہ: سیرت سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم</p>



<p class="has-text-align-right">یہ رسالہ درحقیقت الزامی جوابات پر مشتمل ہے جو کہ ایک ہندو اور پادری ملعونین کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر رکیک حملوں کے ردود پر مشتمل ہے سیرت طیبہ کے تقریبا 65 مختلف ایسے مقامات جو عمومی طور پر مستشرقین اور اعداء اسلام اپنی زہریلی تحاریر (جو عداوت اسلام پر مشتمل ہوتی ہیں) بطور اعتراض استعمال کرتے ہیں ، میں نے گھکڑوی رحمہ اللہ کو کبھی نہیں پڑھا تھا لیکن کل رات دوران مطالعہ یہ رسالہ پڑھا اور دل سے بے شمار دعائیں رحمہ اللہ کے لیے نکلی ، اللہ رحمہ اللہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ابدی عطا فرما کیونکہ ان کی زندگی دفاع رسالت سے تعبیر تھی۔ میں یہ ابتدائی صفحات سکین کر کے ساتھ لگاوں گا تو احباب کو اندازہ ہو گا۔</p>



<p class="has-text-align-right">تیسرا رسالہ: نجات اسلام</p>



<p class="has-text-align-right">یہ اسلام اور عیسائیت کے عقیدہ نجات پر مشتمل ہے</p>



<p class="has-text-align-right">چوتھا رسالہ : برھان الحق بجواب میزان الحق</p>



<p class="has-text-align-right">یہ رسالہ کلام اللہ کے حوالے سے عمومی شبہات کا ازالہ اور ردود پر مشتمل ہے اور اسی رسالہ کے دوسرے حصے میں بائبل کی خامیاں اور کمزوریاں بزبان بائبل بیان کی گئی ہیں</p>



<p class="has-text-align-right">پانچواں اور چھٹا رسالہ حقیقی اہل سنت کا تاریخی پس منظر مختلف مناظرات پر مشتمل ہیں یہ کتاب بھی دار ابی الطیب گوجرنوالہ سے شائع ہوئی ہے میری دعا ہے کہ کاش کوئی صاحب خیر اس کتاب کو خرید کر پاکستان کے تمام مدارس و کالجز اور یونی ورسٹیز کی لائبریریز میں تقسیم کروا دے تو یہ ایک بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا بالخصوص ہالینڈ کے ملعون زمانہ اور خبیث زمانہ سیاست دان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکیک حملوں کی وجہ سے پاکستان کا طول و عرض احتجاج سے گونج رہا ہے اس کتاب کی مدد سے یہ احتجاج عقیدہ رسالت پر علمی بنیاد اختیار کر لے گا ان شاء اللہ</p>



<p></p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/09/07/%d9%85%d8%ac%d9%85%d9%88%d8%b9%db%81-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%b0%d8%a7%d9%84%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%b8%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
