<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Nawab Siddique hasan Khan &#8211; Dar Abi Tayyab</title>
	<atom:link href="https://www.darabitayyab.com/category/nawab-siddique-hasan-khan/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://www.darabitayyab.com</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Wed, 30 Sep 2020 11:04:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=5.8.12</generator>

<image>
	<url>https://www.darabitayyab.com/wp-content/uploads/2020/09/20200917_1747161-1.png</url>
	<title>Nawab Siddique hasan Khan &#8211; Dar Abi Tayyab</title>
	<link>https://www.darabitayyab.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>فتاوی نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کا ترجمہ واشاعت</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/09/23/tabsara-fatawa-nawab-siddiq-hasan-khan/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/09/23/tabsara-fatawa-nawab-siddiq-hasan-khan/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 23 Sep 2020 12:39:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Nawab Siddique hasan Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=490</guid>

					<description><![CDATA[مجدد العصر والا جاہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ اپنے عہد کی عبقری شخصیت اور علم و عمل کے اعتبار سے نہایت بلند مقام پر فائز تھے۔ انھوں نے دعوت و تبلیغ، تصنیف و تالیف، تعلیم و تدریس اور دیگر ذرائع و اسالیب سے کئی تجدیدی کارنامے انجام دیے جن کے اثرات ہند و [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">مجدد العصر والا جاہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ اپنے عہد کی عبقری شخصیت اور علم و عمل کے اعتبار سے نہایت بلند مقام پر فائز تھے۔ انھوں نے دعوت و تبلیغ، تصنیف و تالیف، تعلیم و تدریس اور دیگر ذرائع و اسالیب سے کئی تجدیدی کارنامے انجام دیے جن کے اثرات ہند و بیرون ہند میں دور دراز تک پہنچے اور خلقِ کثیر ان سے مستفید ہوئی۔<br>نواب صاحب مرحوم نے مختلف علوم و فنون میں دو صد سے زیادہ کتب لکھی ہیں جن میں متعدد کتابوں کا تعلق فقہ و اِفتا سے ہے اور یہ علمی ذخیرہ تینوں زبانوں: عربی، اردو اور فارسی میں مطبوع ہے۔ کتبِ فتاویٰ میں نواب صاحب مرحوم کے دو ضخیم مجموعے ہیں جو ڈیڑھ ہزار سے زائد صفحات پر پھیلے ہوئے فارسی زبان میں ہیں اور بیسیوں مسائل کی توضیح و تشریح پر مشتمل ہیں۔ زیر نظر طباعت میں یہی دو فارسی مجموعے اردو قالب میں پیش کیے گئے ہیں۔</p>



<p class="has-text-align-right">(1)</p>



<p class="has-text-align-right">۔ ان فتاویٰ کا پہلا مجموعہ ’’ہدایۃ السائل إلیٰ أدلۃ المسائل‘‘ کے نام سے 546 صفحات پر مشتمل ہے جو 1292ھ میں مطبع شاہجہانی بھوپال سے طبع ہوا تھا۔ یہ مجموعہ 107 فتاویٰ پر مشتمل ہے جس میں عقائد و عبادات اور دیگر مسائل سے متعلق استفسارات کے جواب دیے گئے ہیں۔</p>



<p class="has-text-align-right">(2)<br>۔ دوسرا مجموعہ ’’دلیل الطالب علیٰ أرجح المطالب‘‘ ہے۔ یہ بھی فارسی زبان میں ہے اور 1002 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں 180 سوالات کے جوابات ہیں اور آخر (181) میں خاتمہ کتاب کے اندر گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والے اعمال کا مفصل تذکرہ گیا ہے۔<br>یہ مجموعہ پہلی مرتبہ مطبع شاہجہانی بھوپال سے 1295ھ میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ مولف نے ہر سوال و جواب کو ایک مستقل نام دیا ہے، گویا ہر فتویٰ ایک علاحدہ رسالہ ہو۔ پھر یہ تمام نام بھی مسجع و مقفیٰ عبارات میں ہیں جو صاحبِ کتاب کی عربی زبان و ادب پر مہارت و لیاقت پر دلالت کناں ہیں۔ اسی وجہ سے بعض اہلِ علم نے ان تمام فتاویٰ کو مصنف کے مستقل رسائل شمار کیا ہے اور ان کی تالیفات کی تعداد تین صد سے بھی اوپر بتائی ہے۔<br>(دیکھیں: جماعت اہلِ حدیث کی تصنیفی خدمات از مولانا محمد مستقیم سلفی)</p>



<p class="has-text-align-right">ایک وضاحت:<br>مذکورہ بالا فتاویٰ کے دونوں مجموعوں کے علاوہ بھی نواب صاحب رحمہ اللہ کی فتاویٰ سے متعلق دو کتب کا ذکر ملتا ہے، لیکن ہم نے انھیں اس مجموعے میں شامل نہیں کیا جس کے اسباب یہ ہیں:<br>1۔ ’’حل سؤالات مشکلہ‘‘ کے نام سے نواب صاحب مرحوم کے فتاویٰ کا ایک مختصر مجموعہ موجود ہے جس کی ضخامت 32 صفحات ہے اور یہ 24 سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ یہ مجموعہ 1289ھ میں مطبع نظامی کان پور سے شائع ہوا تھا۔ چونکہ یہ تمام سوالات اور ان کے جواباب ’’ہدایۃ السائل‘‘ میں موجود ہیں، اس لیے اسے زیرِ نظر مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا۔<br>2۔ ’’فتاویٰ نواب صدیق حسن خان‘‘ کے نام سے ایک مجموعہ مکتبہ محمدیہ لاہور کی طرف سے مئی 2013ء میں شائع ہوا تھا جو 400 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ اس مجموعے کی دوسری اشاعت ہے، اس کی اولین طباعت شیخ محی الدین لاہوری مرحوم کے زیرِ اہتمام مطبع احمدی لاہور سے دو جلدوں میں منظر عام پر آئی تھی۔<br>دراصل یہ نواب صاحب مرحوم کا فتاویٰ ہے ہی نہیں، بلکہ اس کا زیادہ تر حصہ ’’فتاویٰ نذیریہ‘‘ سے ماخوذ ہے جس میں نواب صاحب رحمہ اللہ کا ایک فتویٰ بھی شامل نہیں، البتہ کتاب کے آخر میں کچھ مباحث نواب صاحب مرحوم کی تالیف ’’دلیل الطالب‘‘ سے مختصراً اردو ترجمہ کر کے سوالاً جواباً شامل کر دیے گئے ہیں اور اسی بنا پر سارے مجموعے ہی کو ’’فتاویٰ نواب صدیق حسن خان‘‘ کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے جو بہر آئینہ درست نہیں۔<br>چونکہ ان علمی جواہر &#8216;ہدایة السائل&#8217; اور &#8216;دلیل الطالب&#8217; کا یہ خزینہ فارسی زبان میں تھا اور مدت سے نایاب تھا جس کی بنا پر اہلِ علم کے لیے اس سے استفادہ کرنا ممکن نہیں رہا تھا، اسی ضرورت کے پیشِ نظر ’’دار ابی الطیب۔ گوجرانوالہ‘‘ کے ذمے داران نے اسے اردو زبان میں منتقل کرنے کا عزم کیا، جسے عملی جامہ استاد محترم مولانا عبداﷲ سلیم صاحب نے پہنایا اور ہمارے لیے اس سے استفادے کی راہ آسان بنائی۔ جناب مولانا عبداﷲ سلیم صاحب نے کئی برس کی محنتِ شاقہ کے بعد اس کتاب کی فارسی،عربی عبارات و اشعار کا ترجمہ بھی کیا ہے اور ان فتاویٰ میں منقول نصوص و عبارات کی تخریج و تصحیح کا فریضہ بھی انجام دیا ہے جس پر وہ دادِ تحسین کے مستحق اور ہمارے شکریے کے سزاوار ہیں۔ ﷲ تعالیٰ ان کی یہ کاوش قبول کرے اور روزِ آخرت اسے بلندیِ درجات کا ذریعہ بنائے۔<br>ناسپاسی ہو گی یہاں اگر ہندوستان کے معروف عالمِ دین فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر لیث محمد مکی صاحب کا شکریہ نہ ادا کیا جائے جنھوں نے ان فتاویٰ کے اردو ترجمے پر نظر ثانی کی اور کئی مفید مشورہ جات اور تجاویز سے نوازا جن سے اس اشاعت کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔ ﷲ تعالیٰ انھیں بھی جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی اس سعی کو توشۂ آخرت بنائے۔</p>



<p class="has-text-align-right"> اس کتاب کی طباعت و اشاعت میں جن حضرات نے بھی دامے درمے قدمے سخنے تعاون کیا ہے، ﷲ تعالیٰ انھیں اجرِ جزیل سے نوازے اور خدمتِ دین کی مزید توفیق ارزاں کرے۔ آمین یا رب العالمین</p>



<p class="has-text-align-right">یہ اردو اڈیشن 5 جلدوں اور 3168 صفحات پر مشتمل ہے</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/09/23/tabsara-fatawa-nawab-siddiq-hasan-khan/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تبصره مجموعہ رسائل عقیدہ</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-rasail-e-aqeeda/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-rasail-e-aqeeda/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 21 Sep 2020 13:30:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Nawab Siddique hasan Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=424</guid>

					<description><![CDATA[تحرير:-&#160;ابوهشام ضياء قاضي علماء ہند ميں علامہ نواب صديق حسن خان القنوجي رحمہ الله كو منفرد مقام حاصل ہے. علامہ رحمہ الله كى كتب عقيده , تفسير , حديث , فقہ , لغت , تراجم وغيره ميں ہيں. شيخ حمد بن عتيق رحمہ الله نے نواب صاحب رحمہ الله كى تفسير كے بارے ميں ذكر [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">تحرير:-&nbsp;<a href="https://www.facebook.com/abdulrehmanziaqazi?__tn__=%2Cd%2AF%2AF-R&amp;eid=ARA5H5N9Y4iXmkPYvjZ38wnvVBj0QKtnXMKDMgrkNU8P3BCeiwI3gMx1QQvlAVbTNZVrXMUwT-qwIwX3&amp;tn-str=%2AF">ابوهشام ضياء قاضي</a></p>



<p class="has-text-align-right">علماء ہند ميں علامہ نواب صديق حسن خان القنوجي رحمہ الله كو منفرد مقام حاصل ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">علامہ رحمہ الله كى كتب عقيده , تفسير , حديث , فقہ , لغت , تراجم وغيره ميں ہيں.</p>



<p class="has-text-align-right">شيخ حمد بن عتيق رحمہ الله نے نواب صاحب رحمہ الله كى تفسير كے بارے ميں ذكر كيا كہ ہميں ديكھ كر تعجب ہوا کہ كوئى اس زمانے ميں يہ كام سر انجام دے سكتا ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">ان كى كتاب &#8221; الروضة الندية &#8221; كے مطالعے كى نصيحت محدث العصر محمد ناصر الدين الألبانى رحمه الله طالب علموں كو كرتے تھے.</p>



<p class="has-text-align-right">علامہ رحمہ الله كى تصاتيف عربى , فارسى اور اردو ميں ہيں بلكہ ان كى كتاب سلسلة العسجد اور فتاوى دليل الطالب إلى أرجح المطالب كا فارسى سے عربى ميں ترجمہ ڈاكٹر ليث محمد بلال العمري المكى نے كيا اگرچہ دليل الطالب كا ترجمہ ناقص ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">عرب جامعات سے علامہ رحمہ الله كے متعلق رسائل بھى ہيں جن ميں سے چند مندرجہ ذيل ہيں :<br>1) دعوة الأمير العالم صديق حسن خان واحتسابه &#8211; علي الأحمد.<br>2)السيد صديق حسن القنوجى آرؤه الإعتقادية وموقفه من عقيدة السلف &#8211; أختر جمال لقمان.<br>3)صديق حسن خان وجهوده في الدراسات اللغوية &#8211; الزبير بن محمد أيوب بن عمر.<br>4)التعليم عند العلامة صديق حسن خان القنوجي &#8211; محمد الرحيلي.<br>5)القنوجي وآراه التفسيريه على ضوء أقوال ائمة التفسير من سورة الذريات الآية 31 إلى سورة الناس &#8211; محمد مهدي الحمودي.</p>



<p class="has-text-align-right">تصوير ميں موجود كتاب مفيد مجموعہ ہے اور اس ميں علامہ نواب صديق حسن خان رحمہ الله كے پندره عقيدے سے متعلق موضوعات پر رسائل كو تحقيق و ترجمہ كے ساتھ جمع كركے تين جلدوں ميں شائع كيا گيا ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">جلد أول ميں مقدمہ تقريب سو (100) صفحات پر مشتمل ہے جس ميں ان پندره رسائل كى تفصيل مذكور ہے اور اس كے علاوہ علامہ نواب صديق حسن خان رحمہ الله كى حيات پر بڑے خوبصورت انداز ميں روشنى ڈالى گئى ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">رسائل ميں اہم مسائل كا ذكر ہے جن ميں شرک , توحيد , عبادت , توسل , استغاثہ , استواء على العرش , الله كى صفات , صحابہ اور اہل بيت رضى الله عنھم , امامت و خلافت , قبر پرستى , كرامات أولياء , رياكارى وغيره شامل ہيں.</p>



<p class="has-text-align-right">بعض مقامات پر علامہ نواب صاحب رحمہ الله سے اختلاف كى صورت ميں حاشيہ لگا كر وضاحت بھى كى گئى ہے.</p>



<p class="has-text-align-right">علامہ نواب صديق حسن خان رحمہ الله كى علمى تراث ميں يہ بہت اہم اضافہ اور مفيد مجموعہ ہے.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-rasail-e-aqeeda/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تبصره مجموعہ علوم قرآن</title>
		<link>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-uloom-e-quran/</link>
					<comments>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-uloom-e-quran/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[user]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 21 Sep 2020 13:23:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Nawab Siddique hasan Khan]]></category>
		<category><![CDATA[Tabsara]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.darabitayyab.com/?p=422</guid>

					<description><![CDATA[تحرير:- ابوهشام ضياء قاضي علوم قرآن كو خاص اور منفرد مقام حاصل اور كيوں حاصل نہ ہو جب كہ ان علوم كا تعلق رب كے كلام سے هے۔ علوم قرآن كے متعلق علماء كى متعدد تصانيف هيں جن ميں سے چند مندرجہ ذيل هيں : أبو الفرج ابن الجوزى رحمہ اللہ ( وفات 597 هجرى [...]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="has-text-align-right">تحرير:- <a href="https://www.facebook.com/abdulrehmanziaqazi?__tn__=%2Cd%2AF%2AF-R&amp;eid=ARA5H5N9Y4iXmkPYvjZ38wnvVBj0QKtnXMKDMgrkNU8P3BCeiwI3gMx1QQvlAVbTNZVrXMUwT-qwIwX3&amp;tn-str=%2AF">ابوهشام ضياء قاضي</a></p>



<p class="has-text-align-right">علوم قرآن كو خاص اور منفرد مقام حاصل اور كيوں حاصل نہ ہو جب كہ ان علوم كا تعلق رب كے كلام سے هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">علوم قرآن كے متعلق علماء كى متعدد تصانيف هيں جن ميں سے چند مندرجہ ذيل هيں :</p>



<p class="has-text-align-right">أبو الفرج ابن الجوزى رحمہ اللہ ( وفات 597 هجرى ) كى کتاب &#8221; فنون الأفنان في علوم القرآن &#8220;</p>



<p class="has-text-align-right">أبو شامة المقدسي رحمہ اللہ ( وفات 665 هجرى ) كى كتاب &#8221; المرشد الوجيز إلى علوم تتعلق بالكتاب العزيز &#8220;</p>



<p class="has-text-align-right">بدر الدين الزركشي رحمہ اللہ ( وفات 794 هجرى ) كى كتاب &#8221; البرهان في علوم القرآن &#8220;</p>



<p class="has-text-align-right">جلال الدين السيوطى رحمہ اللہ ( وفات 911 هجرى ) كى كتاب &#8221; الإتقان في علوم القرآن &#8220;</p>



<p class="has-text-align-right">ابن عقيلة المكى رحمہ اللہ ( وفات 1150 هجرى ) كى كتاب &#8221; الزيادة والإحسان في علوم القرآن &#8221; جو كہ دس جلدوں میں شائع هوئى هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">زير نظر مولانا علامہ نواب صديق حسن خان قنوجى رحمہ اللہ ( وفات 1307 هجرى ) كى كتاب &#8221; مجموعہ علوم قرآن &#8221; ميں چار رسائل اور كتب هیں جن كا تعلق قرآن كريم سے ہے اور ان كا ذكر درج ذيل هے :</p>



<p class="has-text-align-right">فصل الخطاب في فضل الكتاب : علامہ رحمہ اللہ نے سورتوں اور آيات كى تعداد ، آسمائے قرآن ، نزول وحى كى مختلف صورتيں ، رسم الخط ، نقطے اور اعراب كى تاريخ ، تلاوت قرآن كا ثواب ، ترتيب كے ساتھ قرآن كى مختلف سورتوں اور آيات كى فضيلت بيان كى هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">تذكير الكل بتفسير الفاتحة وأربع قل : اس كتاب ميں پانچ سورتوں فاتحہ ، کافرون ، اخلاص ، فلق ، ناس كى تفسير اور تشريح هے جس ميں عقيده كى اصلاح پر زور ديا گیا ہے۔</p>



<p class="has-text-align-right">إفادة الشيوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ : اس ميں ناسخ اور منسوخ كے معانى كا بيان هے۔ باب اول ميں قرآن مجيد كى ترتيب كے مطابق منسوخ آيات كا ذكر هے اور باب دوم ميں منسوخ احاديث كا ذكر هے۔ علامہ وحمہ اللہ کا اسلوب يہ ہے کہ وه پہلے منسوخ آيت كو ذكر كرتے ہیں اور پھر اس كا ناسخ اس كے ساتھ علماء كا اختلاف اور تفسير بھى بيان كرديتے ہیں اور مختلف آراء ميں ترجيح بھى ديتے ہیں اور احاديث كے متعلق بھى يھى منهج اختيار كيا هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">اكسير في اصول التفسير : اس كتاب ميں علامہ رحمہ اللہ نے ترتيب نزول ، تدوين قرآن ، فنون تفسير ميں صحابہ اور تابعين كا اختلاف اور اس كا حل بيان كيا هےاور اس كے ساتھ علم تفسير پر لکھى جانى والى تقريبا تيره سو كتابوں کا ان كے مؤلفين اور سن وفات كے ساتھ ذكر هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">اس مجموعہ میں اور بھى بهت سارے علوم و فوائد هيں جن كو يھاں درج كرنا مشكل هے۔</p>



<p class="has-text-align-right">تقريبا نو سو (900) صفحات پر مشتمل يہ كتاب اردو داں طبقے کے لیے نهايت مفيد هے اس لیے اسے حاصل كركے استفاده كريں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.darabitayyab.com/2020/09/21/tabsara-majmooa-uloom-e-quran/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
